Connect with us

Coronavirus

کیا وائرل ویڈیو میں نظر آرہا شخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت ہیں؟سچ جاننےکےلئے پڑھئے ہماری تحقیقات

وائرل ویڈیو میں نظر آرہاشخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت نہیں ہیں۔بلکہ ایک چینی شخص ہے جو زندگی میں پہلی بار انجیکشن لگانے کے دوران رو رہا ہے۔

Published

on

فیس بک پر فیاض جھورر نے ایک ویڈیو شئیر کیا ہے۔دعویٰ ہے کہ تھائی لینڈ کے وزیر صحت انجکشن لگواتے ہوئے۔

غلام رسول کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

میاں رضا کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

فیاض جھورر کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

ٹویٹرپر محمد عمر خالد نام کے یوزر نے بھی شیئر کیا ہے۔

Fact check / Verification

وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لیے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کا انوڈ کی مدد سے کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں اسکرین پر یوٹیوب کا لنک فراہم ہوا۔جو 2سال پرانہ اور غیرملکی زبان میں تھا۔

مذکورہ معلومات سے پتہ چلا کہ وائرل ویڈیو کم از کم 2سال پرانہ ہے۔ہم نے وائرل ویڈیو سے متعلق یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ا س دوران ہمیں ریڈیو جمبو کینیا نامی آفیشل یوٹیوب چینل پر وائرل ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ "چینی شخص انجیکشن لگوانے سے انکار کررہا ہے اور روبھی رہا ہے”

جب ہم نے چینی شخص کے حوالے سے کیورڈ سرچ کیا ۔تب ہمیں ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو ملا۔جس کے مطابق چینی شخص زندگی میں پہلی بار انجیکشن لے رہا ہے۔جس کی وجہ سے وہ بہت ڈرا ہوا ہے۔بتادوں کہ اس خبر کو 2فروری 2018 کو شائع کیاگیا تھا۔

کروناویکسین سے متعلق یہ تحقیق بھی پڑھیں

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہاشخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت نہیں ہیں۔بلکہ ایک چینی شخص ہے جو زندگی میں پہلی بار انجیکشن لگانے کے دوران رو رہا ہے۔ بتادوں کہ یہ ویڈیو 2سال پرانہ بھی ہے۔

Result:False

Our Sources

WHO:https://www.who.int/news/item/27-04-2020-who-timeline—covid-19

RJ:https://www.youtube.com/watch?v=KMVtYWVkCbw

SCMP:https://www.scmp.com/video/china/2131776/chinese-man-too-afraid-get-injection

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Coronavirus

ویکسین لگنے کے بعد غیرمُلکی نرس کی نہیں ہوئی 17سیکینڈ میں موت،فرضی دعوے کے ساتھ ویڈیو وائرل

کروناویکسین لگنے کے 17 سیکنڈ بعد نرس کے جاں بحق ہونے کی خبر فرضی ہے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کے باعث محض بےہوش ہوئی تھیں۔

Published

on

ٹویٹر پر ”میں زارا” نامی یورز نے 45سیکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔ویڈیو میں کچھ سفید پوش افراد نظر آرہے ہیں۔یوزر کا دعویٰ ہے کہ "کرونا ویکسین کے تجربہ کے دوران ویکسین لگنے کےبعدنرس 17 سیکنڈ میں مرگئی۔ اللہ تعالی اس وباء سے تمام انسانیت کو بچائے رکھے” يا اللہ رحم۔

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک درج ذیل ہیں

گوہر بخاری کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

میں زارا کے ٹویٹر پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

پختون نامی فیس بک یوزر کا آرکائیو لنک۔

اس کے علاہو دیگر یوزر نے بھی ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم نکالااور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں دی ڈائری آف این اوٹی ڈی گرل نامی فیس بک پیج پر ایک منٹ10سیکینڈ کا وائرل ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن کے مطابق کووڈ ویکسین لگنے کے چالیس سیکینڈ بعد ٹفنی ڈوور نامی سینئر نرس بےہوش ہوگئی تھیں۔

پیسٹور گریگ لاک نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر بھی ویڈیو ملا۔جس میں نرس کو ویکسین لگنے کے بعد بےہوش ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

مذکورہ جانکاری سے ہمیں وائرل ویڈیو میں نظر آرہی نرس کا نام پتا چلا۔پھر ہم نے نرس ٹفنی ڈوور کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں انڈیا ٹی وی پر ٹفنی سے متعلق جانکاری ملی۔رپوٹ میں کہیں بھی ٹفنی کے موت کی بات نہیں کہی گئی ہے۔البتہ ویکسین لگنے کے بعد وہ بےہوش ہوگئی تھی یہ بات صحیح ہے۔

اس کے علاوہ ڈیلی میل نامی ویب سائٹ پر شائع 19دسمبر کی ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق ٹفنی ڈوور 30 سال کی ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں ۔چٹّانوگا کے سی ایچ آئی میموریل اسپتال میں ہیڈ نرس ہیں۔ وہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد ایک لوکل نیوز چینل 9 سے بات کرتے ہوۓ بے ہوش ہو گئی تھیں۔ حالانکہ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس کا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹفنی کے مطابق وہ اکثر و بیشتر اپنی طبی حالت کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی ہیں۔

سرچ کے دوران ہمیں یوٹیوب پر انسائڈ ایڈیشن اور ویٹ نامی آفیشل یوٹیوب چینل پر بھی وائرل ویڈیو کے حوالےسے جانکاری ملی۔ویڈیو کے ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ نرس ٹفنی کے بےہوش ہونے کا ویکسین سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کی وجہ سے بےہوش ہوئی تھیں ناکہ ویکسین لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئیں ہیں۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کروناویکسین لگنے کے 17 سیکنڈ بعد نرس کے جاں بحق ہونے کی خبر فرضی ہے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کے باعث محض بےہوش ہوئی تھیں۔بتادوں کہ امریکی نرس ٹفنی کو بےوقت بےہوش ہونے کا مرض ہے۔

Result- Fabricated/False

Our Sources

FB:https://www.facebook.com/OTDgirl/videos/1107207399699042

Twitter:https://twitter.com/pastorlocke/status/1339765459240022018

IndiaTv:https://www.indiatvnews.com/news/world/us-nurse-tiffany-tennessee-chattanooga-faints-taking-coronavirus-vaccine-shot-press-briefing-672411

DM:https://www.dailymail.co.uk/news/article-9067979/Tennessee-nurse-faints-live-air-minutes-getting-Pfizers-COVID-19-vaccine.html

IE:https://www.youtube.com/watch?v=p9agUz5cQCk

WIC:https://www.youtube.com/watch?v=EXAJ0eWZcas

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Coronavirus

کروناویکسین لگنے کی وجہ سے خواتین کے کبھی ماں نہ بننے کا دعویٰ فرضی ہے

کرونا ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ پیدانہیں کرسکے گی والا دعویٰ فرضی ہے۔زید حامد نے عوام کو گمراہ کرنے کےلئے اس طرح کا فرضی بیان دیا ہے۔

Published

on

سید محبوب نامی ٹویٹر یوزر نے 45سیکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔جس میں بلو اور سفید رنگ کے سویٹر پہنے ہوا شخص یہ کہ رہاہے کہ "جس عورت کو #Covid_19 ویکسین لگے گی وہ بچہ پیدا نہیں کرسکے گی۔اس شخص کا نام سائنسداں زید حامد بتایا گیاہے۔

وائرل ویڈیو کو فیس بک اورٹویٹر پر دیگر یوزر نے بھی شیئر کیا ہے

اے ۔کے خان اختر افغان کے فیس بک پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر ویکسین کے حوالے سے کئے گئے دعوے کی سچائی جاننے سے پہلے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو میں نظر آرہے شخص کو یوٹیوب پر سرچ کیا۔جہاں ہمیں سامی ابراہم نامی یوٹیوب چینل پر 11دسمبر 2020 کو اپلوڈ کیا گیا ویڈیو ملا۔جس کے آخری حصے میں زید حامد یہ کہہ رہے ہیں کہ”جس عورت کو کروناویکسین لگے گا وہ کبھی بچہ پید نہیں کرسکے گی”بتادوں کہ زید حامد کو پاکستانی کے تجزیہ کار وں میں شمار کیا جاتا ہے،وہیں جیونیوز کے ایک رپوٹ میں زید حامد کو لال ٹوپی ، چرب زبانی اور متنازع بیان دینے والوں میں شمار کیاگیا ہے۔

مذکورہ جانکاری سے پتاچلا کہ ویکسین لگنے کے بعد "ماں نہ بن سکے گی خاتون” والا ددعویٰ پاکستان کے زید حامد نامی شخص نے کیا تھا۔پھر ہم نے اس حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیاکہ "کیا سچ میں ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ نہیں پیدا کرپائےگی؟اس دوران ہمیں اےپی(AP)،بزنیس اِن سائڈر اور ڈبلیو کے وائی سی نامی ویب سائٹ پر وائرل دعوے کے حوالے سے خبریں ملیں۔

رپوٹ کے مطابق سوشل میڈیاپر کیاگیا دعویٰ فرضی ہے۔ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ویکسین لگنے کے بعد خاتون ماں کبھی نہ بن سکیں گی۔دراصل گزشتہ دنوں پہلے مائکل یوڈن نامی شخص نے یہ دعویٰ کیاتھا کہ پی فائزر ویکسین لگنے کے بعد خاتون کبھی ماں نہیں بن سکے گی۔جس کے بعد یہ افواہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔بتادوں کہ زید حامد نے بھی اسی ویکسین کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے اپنا بیان دیا تھا۔

فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن نامی ویب سائٹ پر پی فائز کے ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹ بتایا گیا ہے۔جس میں کہیں بھی ویکسین لگنے کے بعد خاتون ماں نہیں بنےگی ۔اس طرح کی بات نہیں لکھی ہوئی ہے۔البتہ جو سائیڈ ایفیکٹ بتائی گئی ہے وہ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرونا ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ پیدانہیں کرسکے گی والا دعویٰ فرضی ہے۔زید حامد نے عوام کو گمراہ کرنے کےلئے اس طرح کا فرضی بیان دیا ہے۔

Result- Fabricated/False

Our Sources

YouTube:https://www.youtube.com/watch?v=mvghxElPMyg

AP:https://apnews.com/article/fact-checking-9856420671

BI:https://www.businessinsider.in/science/news/no-the-coronavirus-vaccine-wont-make-you-infertile/articleshow/79803308.cms

WKYC:https://www.wkyc.com/article/news/verify/will-the-covid-19-vaccine-cause-infertility-in-women/531-3cb5340a-b3d0-4224-8a52-cfb24e9984a9

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Coronavirus

کروناوائرس ویکسین کے ذریعے جسم میں نہیں ڈالی جارہی ہے مائیکرو چپ،فرضی دعویٰ ہوا وائرل

کروناوائرس کی ویکسین کے ذریعے جسم میں مائیکرو چپ داخل کرنے والا دعویٰ فرضی ہے۔دراصل ایپجیکٹ نامی کمپنی کے ایگزکیوٹیو چیئر مین جےباکر کے مطابق آر ایف آئی ڈی(RFID) چپ ویکسن کے باہر لگائی جاتی ہےناکہ جسم کے اندر فٹ کی جاتی ہے۔

Published

on

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہاہے کہ کروناوائرس ویکسین کے ذریعے انسانی جسم میں مائیکروچپ ڈالا جارہاہے۔اس دعوے کے ساتھ صابر شاکر نامی شخص کی ایک تصویر بھی شیئر کی جارہی ہےکہ انہوں اس کا انکشاف کیا ہے۔درج ذیل میں وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک موجود ہیں۔

چودھری سعید اختر کے فیس بک پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

ٹویٹر پر بھی مائیکروچپ کے حوالے سے کیاگیا دعویٰ

ڈاکٹر خان کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

جہانگیر کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

Fact Checking/Verification

سوشل میڈیا پر صابر شاکر کاحوالہ دےکر کروناویکسن کے ذریعے مائیکروچپ جسم میں ڈالنے کا دعویٰ کتنا سچ ہے؟یہ جاننےکےلئے ہم نے سب سے پہلے صابر شاکر کے اس ویڈی کو تلاشنا شروع کیا۔جس کا حوالہ دے کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہاہے۔ہم نے صابر شاکر کو فیس بک پر تلاش۔جہاں ہمیں صابر شاکر نام سے ایک آفیشل فیس بک پیج ملا۔لیکن ہمیں پیج پر کہیں بھی وائرل دعوے والا ویڈیو نہیں ملا۔

پھر ہم نے ویڈیو کو یوٹیوب پر سرچ کیا۔جہاں ہمیں صابر شاکرکی وائرل تصویر کے ساتھ کئےگئے دعوے والا10دسمبر 2020 کاایک ویڈیو نیوزبریکر نامی یوٹیوب چینل پر ملا۔جب ہم نے پورے ویڈیو کو غور سے سنا تو صابر شاکر یہ بتارہے ہیں کہ جو کروناویکسن کے ذریعے مائیکروچپ جسم میں ڈالنے کا دعویٰ کیاجارہاہے وہ فرضی ہے۔بتادوں کہ صابر شاکر پاکستانی یوٹیوبر ہیں۔

مذکورہ جانکاری سے واضح ہوچکا کہ صابرشاکر کے حوالے سے کیاگیا دعویٰ فرضی ہے۔پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا سچ میں انسانی جسم میں کروناویکسن کے ذریعے مائیکرو چپ ڈالا جارہاہے۔سرچ کے دوران ہمیں بی بی سی اردو پر 15نومبر 2020 کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق کروناویکسن کے ذریعے جسم میں مائیکرو چپ داخل کرنے اور ڈی این اے تبدیل کرنے کا دعویٰ فرضی ہے۔

سرچ کے دوران ہمیں سی بی این نیوزچینل پر وائرل دعوے کے حوالے سے جانکاری ملی۔جس کے مطابق ایپیجیکٹ(Apiject) کے ایگزکیوٹیو چیئر مین جےباکر بتارہے ہیں کہ آر ایف آئی ڈی(RFID) چپ ویکسن کے باہر لگائی جاتی ہےناکہ جسم کے اندر فٹ کی جاتی ہے۔دراصل چپ سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ آخر کتنے لوگوں کو ویکسن لگ چکی ہے۔ویکسن کے ہرخوراق کے اوپربار کوڈ لگا ہوتا ہے۔

ریوٹرس نامی ویب سائٹ کے مطابق ایپجیکٹ نامی کمپنی کو امریکا نے کرونا وائرس کی ویکسین کا انجیکشن بنانےکےلئے قرض دیا تھا۔وہیں سوشل میڈیاپر وائرل ہورہے دعوے کو ریوٹرس پہلے ہی ڈیبنک کرچکا ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ کروناوائرس کی ویکسین کے ذریعے جسم میں مائیکرو چپ داخل کرنے والا دعویٰ فرضی ہے۔دراصل ایپجیکٹ نامی کمپنی کے ایگزکیوٹیو چیئر مین جےباکر کے مطابق آر ایف آئی ڈی(RFID) چپ ویکسن کے باہر لگائی جاتی ہےناکہ جسم کے اندر فٹ کی جاتی ہے۔

Result: False

Our Sources

Fb:https://www.facebook.com/SabirShakirARY

YT:https://www.youtube.com/watch?v=1u8kHOQaLzc

BBC:https://www.bbc.com/urdu/science-54948991

CBN:https://www.youtube.com/watch?v=WllUZVwQBZ8&feature=emb_title

Reuters:https://in.reuters.com/article/us-health-coronavirus-usa-apijet/apiject-gets-590-million-u-s-loan-to-produce-covid-19-vaccine-injections-idUSKBN27Z2UJ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading