Connect with us

Fact Checks

کیا وائرل تصویر میں نظر آرہاشخص رکشہ چالک کا بیٹا ہے؟سچ جاننےکےلئے پڑھیئے ہماری تحقیقات

وائرل تصویر میں نظرآرہےلڑکے کانام محمد ولی اللہ ہے اور وہ بنگلہ دیش کا رہنے والا ہے۔اس کے والد ایک رکشہ چالک نہیں ہےبلکہ وہ ایک گاؤں کے کسان ہیں۔

Published

on

سوشل میڈیا پر ایک تصویر بہت زیادہ گردش کررہی ہے۔یوزرس نے لکھا ہے”بنگلہ دیش کے ایک نوجوان نے ڈگری لینے کے بعد گریجویشن کا لباس اپنےوالدین کو پہنا کر اس رکشے کی سواری کرائی جسے چلاکر ان کے والد نے اخراجات پورے کئے تھے۔ماں باپ کو اس انداز میں خراج تحسین پیش کرنے والے کو سلام”

درج ذیل میں وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک موجود ہیں!

نثاررضا کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

اظہر ترین کے پوسٹ کاآرکائیولنک۔

ٹویٹرپر پیارا پاک نامی یوزر نے مذکورہ دعوے کے ساتھ تصویر کو شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

Factcheck/Verification

وائرل تصویر کو جب ہم نے ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں ویریندر سہواگ کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر تصویر ملی۔جس میں انہوں نے رکشہ چلارہے شخص کا نام حسام الدین بتایا ہے۔بتادوں کہ سہواگ نے اسے 18اکتوبر 2018 کو شیئر کیاتھا۔ہم نے احتیاطاً پوسٹ کا آرکائیو کرلیا۔

پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا ۔اس دوران ہمیں ڈیلی سن نامی بنگلہ دیشی نیوز ویب سائٹ پر7اکتوبر2018 کی ایک خبر ملی۔جس میں وائرل تصویر کے ساتھ خبرشائع کی گئی ہے۔رپوٹ کے مطابق رکشہ چلارہے لڑکے کا نام ولی اللہ ہےاور اس کے والدین کسان ہیں۔ولی اللہ نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کیاہے۔جس کے بعد انہوں نے اپنے والدین کو کانووکیشن گاؤن اور کیپ پہناکر خوشی کا اظہار کیا اور رکشے پر بٹھاکر خود رکشہ چلایا۔

مزید سرچ کرنے پر ہمیں ولی اللہ کا ایک فیس بک پوسٹ ملا۔جس میں انہوں نے بنگلہ زبان میں اپنی وائرل تصویر کے بارے میں وضاحت کی ہے۔لکھا ہے کہ اس کے والد ایک رکشہ چالک نہیں ہےبلکہ وہ گاؤں کے ایک کسان ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتاہے کہ وائرل تصویر میں نظرآرہےلڑکے کانام محمد ولی اللہ ہے اور وہ بنگلہ دیش کا رہنے والا ہے۔ان کے والد ایک رکشہ چالک نہیں ہےبلکہ وہ ایک گاؤں کے کسان ہیں۔

Result: Misleading
Our Sources

Sun:https://www.daily-sun.com/arcprint/details/341311/Graduation:-Not-the-end-a-new-beginning/2018-10-07

FB:https://www.facebook.com/mohammad.waliullah.3/posts/1359998464136302

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Fact Checks

غریب بچوں کے سامنے کھانا کھارہی گریٹا تھنبرگ کی یہ تصویر اصلی نہیں ہے

گریٹا کی اصلی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔دوتصاویر کو ملا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیاگیا ہے۔گریٹا کی تصویر اصلی تصویر 2019 کی ہے اور دوسری تصویر وسطی افریقہ کےبوڈولی گاؤں کے بچوں کی ہے۔جوکہ 2007 میں کلک گئی تھی۔

Published

on

گریٹا تھنبرگ کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔جس میں وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی کھانا کھا رہی ہیں اور کچھ غریب بچے کھڑکی کے باہر سے انہیں دیکھ رہے ہیں۔اس تصویر کے ذریعے یوزرس گریٹا پر سوال اٹھا رہے ہیں اور انہیں فرضی کارکن بتارہے ہیں۔تصویر کوAskGretaWhy# ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کیاجارہاہے۔

فروری کے شروعات میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھارت میں ہورہے کسان آندولن کی حمایت میں ٹویٹ کیا تھا۔جس کے ساتھ انہوں نے ایک ٹول کٹ بھی شیئر کردیا تھا۔اس کے بعد بھارت میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ٹول کٹ جانچ کے سلسلے میں کئی کارکنان پولس کےرڈار پر ہیں اورسوشل میڈیا یوزرس گریٹا کو آئے دن اپنے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ درج ذیل میں یک بعد دیگر پوسٹ درج ذیل میں موجود ہیں۔

Fact Checking/Verification

گریٹاکی وائرل تصویر کو جب ہم نے ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں اصل تصویر ملی۔جسے گریٹا نے 22 جنور ی2019 کوخود اپنے ٹویٹر اور انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تھا۔جس کے کیپشن میں گریٹا نے لکھا تھا(Lunch in Denmark)”ڈنمارک میں لنچ”

اصلی تصویر سے صاف واضح ہوچکاکہ گریٹا سفر کے دوران ٹرین میں کھانا کھارہی ہیں اور تصویر کے دوسری جانب جنگل نظرآرہاہے۔وہیں برازیل کے صدرجیئربول سونارو کے بیٹے ایڈوارڈو نے 2019 میں گریٹا کی من گھڑت مذکورہ تصویر شیئر کی تھی۔

گریٹا کی تصویر کے پیچھے بچوں کی تصویر کو جب ہم نے اویسم اسکرین شارٹ(Awesome Screen Short) کی مدد سے ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں ریوٹرس نیوز ویب سائٹ پر 30اگست 2007 کی ایک خبر ملی۔جس میں غریب بچوں والی وائرل تصویر سے متعلق لکھا ہے کہ یہ وسطی افریقی کی ہے۔ریوٹرس نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ یہ بچے 23اگست2007 کو بوڈولی گاؤں کے پاس بے گھر افراد کے لئےبناے گئے کیمپ رہ رہے ہیں۔

وائرل تصویر اور گریٹا کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر کا موازنہ نیچے دیئے گئے کولاج سے واضح ہوتا ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ گریٹا کی اصلی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔دوتصاویر کو ملا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیاگیا ہے۔گریٹا کی اصل تصویر 2019 کی ہے اور دوسری تصویر وسطی افریقہ کےبوڈولی گاؤں کے نزدیک کیمپ میں رہ رہے بچوں کی ہے۔جوکہ 2007 میں کلک کی گئی تھی۔

Result: Manipulated

Our Sources

Tweet:https://twitter.com/GretaThunberg/status/1087688894706077697

Insta:https://www.instagram.com/p/Bs78FqnBOyv/?utm_source=ig_web_copy_link

Extra:https://extra.ie/2019/09/27/news/world-news/huge-lashback-after-fake-image-of-greta-thunberg-eating-in-front-of-poor-children-is-circulated-online

Reuters:https://www.reuters.com/article/us-centralafrica-refugees/bush-war-leaves-central-african-villages-deserted-idUSL3080284520070830

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Fact Checks

2019 میں جرمنی میں ہوئے احتجاج کی تصویر کو بھارت کے کسان آندولن سے جوڑ کر کیاجارہاہے شیئر

جرمن میں 2019 میں ہوئے کسانوں کے احتجاج کی تصویر کو موجودہ کسان آندولن سے جوڑکر سوشل میڈیا پر شیئرکیاجارہاہے۔

Published

on

فیس بک پر خلیل اوجلا نامی یوزر نے ٹریکٹر ریلی کی ایک تصویر شیئر کی ہے۔یوزر کا دعویٰ ہے کہ بھارتی کسان آندولن کی حمایت میں ہالینڈ اور جرمنی کے کسانوں نے بھی ٹریکٹر ریلی نکالی۔ یہ تحریک اب بین الاقوامی مزدور تحریک بنتی جا رہی ہے۔

خلیل اوجلا کے پوسٹ کاآرکائیولنک۔

ملک مبشر کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

اس کے علاوہ متعد د یوزر س نے فیس بک پر اس تصویر کو شیئر کیا ہے۔اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

 Fact Check/Verification 

وائرل تصویر کو جب ہم نے ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں ٹریبیون کرونیکل نامی ویب سائٹ پر 26نومبر 2019 کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق جرمن اور یوروپین زرعی پولیسی کے خلاف ہزاروں کسانوں نے اپنے ٹریکٹر برلن کے برانڈن برگ گیٹ پر کھڑا کر اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔کسانوں نے ٹریفک بھی جام کیا تھا۔

مزید کیورڈ سرچ کر نے پر ہمیں اے پی نیوز اور نیوزاینڈ اسٹار نامی ویب سائٹ پروائرل تصویر کے حوالے سے معلومات ملی۔رپورٹ کے مطابق برلن کے برانڈن برگ گیٹ پر تقریباً10 ہزار کسانوں نے5 ہزار ٹریکٹروں کے ساتھ شہر کی ٹریفک جام کر احتجاج کیا تھا۔اب یہ واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر کا موجودہ کسان آندولن سےکوئی لینادینا نہیں ہے۔

Conclusion 

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی کے برلن میں 2019 میں ہوئے کسانوں کے احتجاج کی تصویر کو موجودہ کسان آندولن سے جوڑکر سوشل میڈیا پر شیئرکیاجارہاہے۔

Result: Misleading

Sources

T:https://www.tribtoday.com/news/latest-news/2019/11/tue-933-a-m-farmers-blocking-berlin-roads-to-protest-government-policies/?hcb=1&fbclid=IwAR1t8pzwDSTfzlEbkxn8Hyw-sFlsY4yMxKdGlJoU0injVjG3hFzG9tA6k_0

NStar:https://www.newsandstar.co.uk/news/national/18061286.farmers-blocking-berlin-roads-protest-government-policies/

AP:https://apnews.com/article/c876438f330e4d8ea0a062f45f678c65/gallery/7a6b92c05ae346ce83412c3a47f51e5a

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Fact Checks

اٹلی میں ملے سونے کےسکوں کی تصویر کو جموں کشمیر کے بارہ مولہ کا بتاکر سوشل میڈیا پر کیاجارہاہے شیئر

وائرل تصویر اٹلی کے” کومو شہر” میں ملے سونے کے سکوں کی ہے۔ وولر جھیل کے نزدیک سونے کے سکے ملنے کی خبر فرضی ہے۔

Published

on

کنکٹ کشمیر نامی فیس بک پیج پر سونے کے سکوں کی ایک تصویرشیئر کی گئی ہے۔یوزر کا دعویٰ ہے کہ 13فروری 2021 کوجموں کشمیر کے بارہمولہ وولر جھیل کے قریب ایک مزدور کو سونے کا خزانہ ملا ہے۔یہ اسی خزانے کی تصویرہے۔

کنکٹ کشمیر کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

وزمَل کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

اس تصویر کو دیگر کئی یوزر س نے شیئر کیا ہے۔

Fact Check/Verification

سونے کے سکوں والی وائرل تصویر کو جب ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا توہمیں اسکرین پر وائرل تصویر سے متعلق کئی خبروں کے لنک فراہم ہوئے۔جو 2018 کے تھے۔جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

اس کے بعد ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا تو اے بی سی نیوز، دی سن اور لائیو ہندوستان نامی نیوز ویب سائٹ پر 10اور 11 ستمبر 2018 کی اس حوالے سے خبریں ملیں۔ ان سبھی رپورٹس میں اس تصویر کو اٹلی کا بتایا گیا ہے۔ جہاں اٹلی کے” کومو” نامی شہر میں ایک پرانے ٹھیٹر کی کھدائی کے وقت سکوں سے بھرا ہوا گھڑا ملا تھا۔ ان سکوں کو روم کے آخری شاہی دور یعنی چوتھی یا پانچویں صدی کا بتایا گیا ہے۔

اےبی سی آرکائیو لنک۔

دی سن کے آرکائیو لنک۔

اس کے علاوہ اٹلی وزارت ثقافت و سیاحت کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر بھی 7 ستمبر 2018 کو یہ تصویر پوسٹ کی گئی ہے۔ جس کا کیپشن "اٹلی زبان میں لکھا ہوا ہے۔گوگل ٹرانسلیٹ کرنے پر پتاچلا کہ ” کومو کے وسط میں ، آخری شاہی دور کے سینکڑوں سونے کے سکے ملے ہیں،جو کہ ایک غیر معمولی گھڑے میں تھے۔یہ ایک ایسی کھوج ہے جس پر مجھے فخر ہے”۔

اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی پتا لگانے کی کوشش کی کہ” آیا وولر جھیل کے نزدیک واقعی سونے کے سکے ملے ہیں یا نہیں ؟ لیکن ہمیں کسی بھی میڈیا رپورٹ پر سونے کا خزانہ ملنے کی خبر نہیں ملی۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر اٹلی کے” کومو شہر” میں ملے سونے کے سکوں کی ہے۔ وولر جھیل کے نزدیک سونے کے سکے ملنے کی خبر فرضی ہے۔

Result:False

Our Sources

abc:https://abcnews.go.com/International/hundreds-gold-coins-dating-romes-imperial-era-found/story?id=57720521

TheSun:https://www.thesun.ie/news/3098819/labourers-unearth-hundreds-of-roman-gold-coins-stuffed-inside-urn-and-buried-beneath-a-cinema-in-northern-italy/

LH:https://www.livehindustan.com/international/story-hundreds-of-gold-coins-in-amphora-discovered-under-a-theatre-during-archaeological-dig-in-italy-2167705.html

Tweet:https://twitter.com/_MiBACT/status/1038089191853150208

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading