Connect with us

Coronavirus

بہار:مظفرپور کے اسپتال میں کتےّ کے جھنڈ والی تصویر برسوں پرانی ہے

Published

on

اسپتال کے بیڈ پر کتوں کے جھنڈ والی تصوری بہار کے مظفرپور کی ہے۔اس کےلیے بہار کے سی ایم نتیش کمار کو مبارکباد پیش کیجیے۔

اسپتال کی یہ وائرل تصوریر  پرانی ہے
viral imag from Twitter

اسپتال کے بیڈ پر بیٹھے کتّوں کے حوالے سے وائرل پوسٹ

وائرل تصویر کو ٹویٹر پر راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر ڈاکٹر تنویر حسن نے 28 جولائی 2020 کو چار بج کر گیارہ منٹ پر شیئر کیا تھا۔ہمارے آرٹیکل لکھنے تک اس پوسٹ کو 46 سو یوزرس لائک کر چکے تھے۔جبکہ ۱۱۰۰ نے ری ٹویٹ کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

چودھری کپل راج ابوہر نامی ٹویٹر یوزر نے وائرل تصویر کو کروناوائرس سے جوڑکر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

فیس بک پر ڈاکٹر تنویر حسن کے اس ٹویٹ کو مظفر پور کا بتا کر سندیپ بھائی بتیا نامی یوزر نے شیئر کیاہے۔جسے ہمارے آرٹیکل لکھنے تک ۳۴۲ یوزرس شیئر کرچکے تھے۔جبکہ ۴۴۴ نے لائک کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

بہار میں ان دنوں کروناوائرس اور سیلاب کا قہر برپاہے۔وہیں دوسری جانب بہار میں اگلے کچھ ماہ بعد اسمبلی الیکشن بھی ہونے کا اندیشہ ہے۔لیکن اسی بیچ بہار کی بدحالی کی تصویر سوشل میڈیا پر خوب گردش کررہی ہے۔حال ہی میں ایک اسپتال کی تصویر کو شیئر کیا گیا ہے۔جس کے ہربیڈ پر کتّے بیٹھے ہوئے نظر آرہے ہیں۔دعویٰ کیا جارہا ہے کہ حال کے دنوں میں مظفرپور کے ایک اسپتال میں کتّے سماجی فاصلے کے اہتمام کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔

اس بات میں کتنی سچائی ہے؟اسے جاننے کےلیے جب ہم نے وائرل تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں فیس بک کا ایک لنک ملا۔جسے کلک کرنے پر پتا چلا کہ ہوبہو وائرل تصویر کو یوپی کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔لیکن یہ پوسٹ 4فروری دوہزار بیس کو شیئر کی گئی تھی۔

https://www.facebook.com/photo/?fbid=850384085424813&set=a.314929392303621

اسپتال کے بیڈ پر بیٹھے کتوں کی وائرل تصویر کب کی ہے؟

فیس بک پوسٹ سے واضح ہوچکا کہ یہ تصویر پہلے بھی وائرل ہوچکی ہے۔پھر ہم نے جب کچھ کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں دی ریئل ٹروتھ اور دینک بھاسکر پر شائع ۵دسمبر دوہزار سترہ کی خبریں ملیں۔جس کے مطابق وائرل تصویر بہار کے مظفر پور کے سرکاری صدر اسپتال کی ہے۔جہاں کتے کو جب سردی لگتی ہے تو وہ مریضوں کے بستر اور کمبل میں گھس کر آرام فرماتے ہیں۔

 وائرل تصویر کے حوالے سے اصل خبر
First information about viral image

مذکورہ تحقیقات سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں وائرل تصویر کے حوالے سےری پبلک ٹی وی اور مظفرپور ناؤ نامی یوٹیوب چینل پر خبریں ملیں۔جس کے مطابق مظفرپور کےصدر اسپتال میں کتے رات کو اپنا ڈیرا جما لیتے ہیں اور انتظامیہ کے کانوں تلے جوں تک نہیں رینگتی۔واضح رہے کہ یہ خبریں چار اور پانچ دسمبر دوہزار ستر ہ کو یوٹیوب پر اپلوڈ کیاگیا تھا۔

نیوزچیکر پہلے بھی بہار کے حوالے سے وائرل پوسٹ کو ڈیبنک کرچکا ہے۔

سبھی تحقیقات کے باوجود ہم نے جب وائرل تصویر کو غور سے دیکھاتو دیوار پر لگا بورڈ نظر آیا۔جوذرا دھوندلا سا ہے۔جس پر صدراسپتال مظفرپور لکھاہواہے۔نشادہی تصویر کو غور سے دیکھیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر کے ساتھ کیا گیا دعویٰ صحیح ہے۔لیکن یہ تصویر دسمبر دوہزار سترہ کی ہے۔البتہ وائرل تصویر کو کرونا وائرس سے جوڑ کر بتانا غلط ہے۔

Our Sources

Dainik bhaskar:https://www.bhaskar.com/news/BIH-PAT-HMU-LCL-dogs-on-surgical-ward-bed-of-government-hospital-5761558-NOR.html

TheRealtruth:https://therealtruth.in/%E0%A4%AC%E0%A4%BF%E0%A4%B9%E0%A4%BE%E0%A4%B0-%E0%A4%B8%E0%A4%B0%E0%A4%95%E0%A4%BE%E0%A4%B0%E0%A5%80-%E0%A4%85%E0%A4%B8%E0%A5%8D%E0%A4%AA%E0%A4%A4%E0%A4%BE%E0%A4%B2-%E0%A4%AE%E0%A5%87%E0%A4%82/

RepublicWorld: https://www.youtube.com/watch?v=sZ-1DBNJDOw

Muzaffarpur Now: https://www.youtube.com/watch?v=BB1NbKtuSzk

Result:Misleading

Coronavirus

کیا وائرل ویڈیو میں نظر آرہا شخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت ہیں؟سچ جاننےکےلئے پڑھئے ہماری تحقیقات

وائرل ویڈیو میں نظر آرہاشخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت نہیں ہیں۔بلکہ ایک چینی شخص ہے جو زندگی میں پہلی بار انجیکشن لگانے کے دوران رو رہا ہے۔

Published

on

فیس بک پر فیاض جھورر نے ایک ویڈیو شئیر کیا ہے۔دعویٰ ہے کہ تھائی لینڈ کے وزیر صحت انجکشن لگواتے ہوئے۔

غلام رسول کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

میاں رضا کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

فیاض جھورر کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

ٹویٹرپر محمد عمر خالد نام کے یوزر نے بھی شیئر کیا ہے۔

Fact check / Verification

وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لیے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کا انوڈ کی مدد سے کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں اسکرین پر یوٹیوب کا لنک فراہم ہوا۔جو 2سال پرانہ اور غیرملکی زبان میں تھا۔

مذکورہ معلومات سے پتہ چلا کہ وائرل ویڈیو کم از کم 2سال پرانہ ہے۔ہم نے وائرل ویڈیو سے متعلق یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ا س دوران ہمیں ریڈیو جمبو کینیا نامی آفیشل یوٹیوب چینل پر وائرل ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ "چینی شخص انجیکشن لگوانے سے انکار کررہا ہے اور روبھی رہا ہے”

جب ہم نے چینی شخص کے حوالے سے کیورڈ سرچ کیا ۔تب ہمیں ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو ملا۔جس کے مطابق چینی شخص زندگی میں پہلی بار انجیکشن لے رہا ہے۔جس کی وجہ سے وہ بہت ڈرا ہوا ہے۔بتادوں کہ اس خبر کو 2فروری 2018 کو شائع کیاگیا تھا۔

کروناویکسین سے متعلق یہ تحقیق بھی پڑھیں

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہاشخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت نہیں ہیں۔بلکہ ایک چینی شخص ہے جو زندگی میں پہلی بار انجیکشن لگانے کے دوران رو رہا ہے۔ بتادوں کہ یہ ویڈیو 2سال پرانہ بھی ہے۔

Result:False

Our Sources

WHO:https://www.who.int/news/item/27-04-2020-who-timeline—covid-19

RJ:https://www.youtube.com/watch?v=KMVtYWVkCbw

SCMP:https://www.scmp.com/video/china/2131776/chinese-man-too-afraid-get-injection

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Coronavirus

ویکسین لگنے کے بعد غیرمُلکی نرس کی نہیں ہوئی 17سیکینڈ میں موت،فرضی دعوے کے ساتھ ویڈیو وائرل

کروناویکسین لگنے کے 17 سیکنڈ بعد نرس کے جاں بحق ہونے کی خبر فرضی ہے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کے باعث محض بےہوش ہوئی تھیں۔

Published

on

ٹویٹر پر ”میں زارا” نامی یورز نے 45سیکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔ویڈیو میں کچھ سفید پوش افراد نظر آرہے ہیں۔یوزر کا دعویٰ ہے کہ "کرونا ویکسین کے تجربہ کے دوران ویکسین لگنے کےبعدنرس 17 سیکنڈ میں مرگئی۔ اللہ تعالی اس وباء سے تمام انسانیت کو بچائے رکھے” يا اللہ رحم۔

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک درج ذیل ہیں

گوہر بخاری کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

میں زارا کے ٹویٹر پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

پختون نامی فیس بک یوزر کا آرکائیو لنک۔

اس کے علاہو دیگر یوزر نے بھی ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم نکالااور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں دی ڈائری آف این اوٹی ڈی گرل نامی فیس بک پیج پر ایک منٹ10سیکینڈ کا وائرل ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن کے مطابق کووڈ ویکسین لگنے کے چالیس سیکینڈ بعد ٹفنی ڈوور نامی سینئر نرس بےہوش ہوگئی تھیں۔

پیسٹور گریگ لاک نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر بھی ویڈیو ملا۔جس میں نرس کو ویکسین لگنے کے بعد بےہوش ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

مذکورہ جانکاری سے ہمیں وائرل ویڈیو میں نظر آرہی نرس کا نام پتا چلا۔پھر ہم نے نرس ٹفنی ڈوور کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں انڈیا ٹی وی پر ٹفنی سے متعلق جانکاری ملی۔رپوٹ میں کہیں بھی ٹفنی کے موت کی بات نہیں کہی گئی ہے۔البتہ ویکسین لگنے کے بعد وہ بےہوش ہوگئی تھی یہ بات صحیح ہے۔

اس کے علاوہ ڈیلی میل نامی ویب سائٹ پر شائع 19دسمبر کی ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق ٹفنی ڈوور 30 سال کی ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں ۔چٹّانوگا کے سی ایچ آئی میموریل اسپتال میں ہیڈ نرس ہیں۔ وہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد ایک لوکل نیوز چینل 9 سے بات کرتے ہوۓ بے ہوش ہو گئی تھیں۔ حالانکہ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس کا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹفنی کے مطابق وہ اکثر و بیشتر اپنی طبی حالت کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی ہیں۔

سرچ کے دوران ہمیں یوٹیوب پر انسائڈ ایڈیشن اور ویٹ نامی آفیشل یوٹیوب چینل پر بھی وائرل ویڈیو کے حوالےسے جانکاری ملی۔ویڈیو کے ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ نرس ٹفنی کے بےہوش ہونے کا ویکسین سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کی وجہ سے بےہوش ہوئی تھیں ناکہ ویکسین لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئیں ہیں۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کروناویکسین لگنے کے 17 سیکنڈ بعد نرس کے جاں بحق ہونے کی خبر فرضی ہے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کے باعث محض بےہوش ہوئی تھیں۔بتادوں کہ امریکی نرس ٹفنی کو بےوقت بےہوش ہونے کا مرض ہے۔

Result- Fabricated/False

Our Sources

FB:https://www.facebook.com/OTDgirl/videos/1107207399699042

Twitter:https://twitter.com/pastorlocke/status/1339765459240022018

IndiaTv:https://www.indiatvnews.com/news/world/us-nurse-tiffany-tennessee-chattanooga-faints-taking-coronavirus-vaccine-shot-press-briefing-672411

DM:https://www.dailymail.co.uk/news/article-9067979/Tennessee-nurse-faints-live-air-minutes-getting-Pfizers-COVID-19-vaccine.html

IE:https://www.youtube.com/watch?v=p9agUz5cQCk

WIC:https://www.youtube.com/watch?v=EXAJ0eWZcas

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Coronavirus

کروناویکسین لگنے کی وجہ سے خواتین کے کبھی ماں نہ بننے کا دعویٰ فرضی ہے

کرونا ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ پیدانہیں کرسکے گی والا دعویٰ فرضی ہے۔زید حامد نے عوام کو گمراہ کرنے کےلئے اس طرح کا فرضی بیان دیا ہے۔

Published

on

سید محبوب نامی ٹویٹر یوزر نے 45سیکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔جس میں بلو اور سفید رنگ کے سویٹر پہنے ہوا شخص یہ کہ رہاہے کہ "جس عورت کو #Covid_19 ویکسین لگے گی وہ بچہ پیدا نہیں کرسکے گی۔اس شخص کا نام سائنسداں زید حامد بتایا گیاہے۔

وائرل ویڈیو کو فیس بک اورٹویٹر پر دیگر یوزر نے بھی شیئر کیا ہے

اے ۔کے خان اختر افغان کے فیس بک پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر ویکسین کے حوالے سے کئے گئے دعوے کی سچائی جاننے سے پہلے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو میں نظر آرہے شخص کو یوٹیوب پر سرچ کیا۔جہاں ہمیں سامی ابراہم نامی یوٹیوب چینل پر 11دسمبر 2020 کو اپلوڈ کیا گیا ویڈیو ملا۔جس کے آخری حصے میں زید حامد یہ کہہ رہے ہیں کہ”جس عورت کو کروناویکسین لگے گا وہ کبھی بچہ پید نہیں کرسکے گی”بتادوں کہ زید حامد کو پاکستانی کے تجزیہ کار وں میں شمار کیا جاتا ہے،وہیں جیونیوز کے ایک رپوٹ میں زید حامد کو لال ٹوپی ، چرب زبانی اور متنازع بیان دینے والوں میں شمار کیاگیا ہے۔

مذکورہ جانکاری سے پتاچلا کہ ویکسین لگنے کے بعد "ماں نہ بن سکے گی خاتون” والا ددعویٰ پاکستان کے زید حامد نامی شخص نے کیا تھا۔پھر ہم نے اس حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیاکہ "کیا سچ میں ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ نہیں پیدا کرپائےگی؟اس دوران ہمیں اےپی(AP)،بزنیس اِن سائڈر اور ڈبلیو کے وائی سی نامی ویب سائٹ پر وائرل دعوے کے حوالے سے خبریں ملیں۔

رپوٹ کے مطابق سوشل میڈیاپر کیاگیا دعویٰ فرضی ہے۔ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ویکسین لگنے کے بعد خاتون ماں کبھی نہ بن سکیں گی۔دراصل گزشتہ دنوں پہلے مائکل یوڈن نامی شخص نے یہ دعویٰ کیاتھا کہ پی فائزر ویکسین لگنے کے بعد خاتون کبھی ماں نہیں بن سکے گی۔جس کے بعد یہ افواہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔بتادوں کہ زید حامد نے بھی اسی ویکسین کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے اپنا بیان دیا تھا۔

فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن نامی ویب سائٹ پر پی فائز کے ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹ بتایا گیا ہے۔جس میں کہیں بھی ویکسین لگنے کے بعد خاتون ماں نہیں بنےگی ۔اس طرح کی بات نہیں لکھی ہوئی ہے۔البتہ جو سائیڈ ایفیکٹ بتائی گئی ہے وہ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرونا ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ پیدانہیں کرسکے گی والا دعویٰ فرضی ہے۔زید حامد نے عوام کو گمراہ کرنے کےلئے اس طرح کا فرضی بیان دیا ہے۔

Result- Fabricated/False

Our Sources

YouTube:https://www.youtube.com/watch?v=mvghxElPMyg

AP:https://apnews.com/article/fact-checking-9856420671

BI:https://www.businessinsider.in/science/news/no-the-coronavirus-vaccine-wont-make-you-infertile/articleshow/79803308.cms

WKYC:https://www.wkyc.com/article/news/verify/will-the-covid-19-vaccine-cause-infertility-in-women/531-3cb5340a-b3d0-4224-8a52-cfb24e9984a9

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading