Connect with us

Fact Checks

کیا تین آنکھوں والا بچہ دنیاں میں جنم لیا ہے؟سچ ہے یا افواہ؟پڑھیئے ہماری تحقیق

Published

on

دعویٰ

اللہ اکبر قدرت کا شاہکار، تین آنکھوں والا بچہ دنیا میں جنم لیا ہے۔

تصدیق

سوشل میڈیا کے سبھی معروف پلیٹ فارم پر ان دنوں تین آنکھوں والے بچے کا ایک گیارہ سیکینڈ کا ویڈیو خوب گردش کررہا ہے۔بچے کے حوالے سے مختلف زبانوں میں الگ الگ طرح کے دعوے کیے جارہے ہیں۔کوئی بچے کو دجال سے تعبیر دے رہا ہےتو کوئی قدرت کا کرشما تو کوئی بابا کا قول بتارہے ہیں۔وہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بچہ جرمی میں پیدا ہوا ہے۔در ذیل میں سبھی کے

وائرل ویڈیو کو احسانِ ابوطالب اور امید سحر نامی فیس بک پیج پر مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک دونوں کے نام پر کلک کر کے دیکھیں۔

ٹوپر ڈاکٹر سدھارتھ نامی یوزر نے وائرل ویڈیو کو جرمنی کا بتاکر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک دیکھیں۔

تیلگو فیس بک یوزر نے بھی اس ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ویرا بھرم٘انندسوامی نے کئی سالوں پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ تین آنکھوں والا بچہ پیدا ہوگا۔آرکائیولنک۔

یوٹیوب پر بھی اس ویڈیو کو جرمنی کا بتاکر شیئر کیاگیا ہے۔آرکائیو لنک۔

ہماری تحقیق

وائرل ویڈیو کی سچائی تک پہنچے کے لیے سب سبے پہلے ہم نے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کچھ کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔لیکن وہاں ہمیں کچھ بھی معتبر جانکاری نہیں ملی۔پھر ہم نے ویڈیو کو غور سے دیکھنے پر پتا لگا کہ ویڈیو کو ڈیجیٹلی رد و بدل کی گئی ہے۔غور سے دیکھنے پر صاف پتا چلتا ہے کہ بایاں آنکھ اور پیشانی پر موجود آنکھ دونوں ایک جیسی حرکتیں کررہی ہے اور سائز بھی دونوں کا برابر ہے۔جبکہ دائیں آنکھ دیکھنے سے پتا چل تا ہے کہ ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا گیا ہے۔حالانکہ دیگر فیکٹ چیک نے بھی اس ویڈیو کو ایڈیٹ بتایا ہے۔

مذکورہ تجزیہ کے بعد بھی ہمیں تسلی نہیں ملی تو ہم نے سوچا کیوں نہ اس حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیاجائے۔تاکہ پتا چل سکے کہ آیا اس طرح کا واقعہ دنیا میں پیش آیا ہے کی نہیں؟جب ہم نے اس سلسلے میں کچھ کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں آج تک نیوز ویب سائٹ پر دوہزار تیرہ کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق چھتیس گڑھ کے بھاٹاپارا میں ایک خاتون نے سرکاری اسپتال میں تین آنکھوں والے بچے کو جنم دیا تھا۔لیکن وائرل ویڈیو میں نظر آرہے بچے کی تصویر سے بالکل مختلف ہے۔اب یہاں واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان ہی میں یہ واقعہ پیش آچکا ہے۔

ان سبھی تحقیقات کے باوجود ہم نے کچھ ریسرچ اس حوالے سے پڑھا۔جس میں بتایا گیا ہے کہ تین آنکھوں کے ساتھ جوبچہ پیدا ہوا ان میں ڈیپرو سوپس نامی بیماری بھی ہوتی ہے۔جس میں چہرے کے حصوں کا ڈوبلیکیشن ہو جاتا ہے۔ریسرچ کے مطابق ہر دس لاکھ میں دو بچوں کو یہ بیماری ہوسکتی ہے۔ایک ڈاکٹر کے مطابق وہ اپنی زندگی میں اس طرح کے پانچ کیس ہینڈل کر چکا ہے۔رپورٹ اوپر لنک پر کلک کرکے مزید جانکاری حاصل کر سکتے ہیں۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ ڈیجیٹلی رد و بدل کی گئی ہے۔رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تین آنکھوں والا بچہ تو دنیا میں پہلے بھی پیدا ہوچکا ہے۔لیکن جرمنی میں تین آنکھو والا بچہ پیدا ہوا ہے یہ رپورٹ ہمیں کہیں نہیں ملی۔

ٹولس کا استعمال

انوڈ سرچ

ریورس امیج سرچ

گوگل کیورڈسرچ

ریسرچ رپورٹ

فیس بک /ٹویٹر ایڈیوانس سرچ

نتائج:فرضی دعویٰ/ڈیجیٹلی رد و بدل

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Crime

کاویری معاملے میں ہوئے تشدد کی 4 سال پرانی تصویر کو بنگلوروفساد کا بتاکرکیاگیا شیئر

Published

on

جہادی کٹھ مُلّوں نے بنگلورو شہر میں دہشت پھیلا دیا ہے۔پیغمرؐ کے خلاف ایک دلت ایم ایل اے کے بھتیجے نے تبصرہ کیا۔جس پر مسلمانوں نے ایم ایل اے کے گھر جلادیا!لوگوں کے بھی گھر جلا دیئے۔گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا،تھانے کے باہر توڑ پھوڑ کیے گئے۔

بنگلورو فساد کے حوالے سے وائرل امیج
Viral Image From Twitter

کیا وائرل پوسٹ؟

سنجیو رام نامی ٹویٹر ہینڈل سے برج کے نیچے آگ زنی تصویر کو شیئر کیا گیا ہے۔جسے یوزر نے حال کے دنوں میں بنگلورو میں ہوئے فساد سے جوڑ کر تصویر کو شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

برینڈ راج سنگھ نے بھی اپنے ٹویٹر ہنیڈ سے آگ زنی والی وائرل تصویر کو بنگلور فساد سے جوڑ کر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

فیس بک پر سناتنی امت یادو نے آگ زنی کی18 تصاویر کو بنگلورو فساد سے جوڑ کر شیئر کیا ہے ۔جن میں پہلی تصویر مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی تصویر بھی ہے۔آرکائیو لنک۔

نریندر یادو نے بھی وائرل تصویر کو بنگلورو فساد سے جوڑ کر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

Fact check / Verification

وائرل تصویر کے ساتھ کیے گئے دعوے کی حقیقت جاننے کی کوشش تو ہمیں بنگلورو تشدد کے حوالے سے دی وائرل اور نیوز18 اردو پر 12اگست کی خبر یں ملی۔جس کے مطابق کانگریس ایم ایل اے اکھنڈا شری نواس مورتی کا رشتہ دار  نوین نے  فیس بک پر اشتعال انگیز بیان اور پوسٹ شیئر کیا تھا۔جس کے بعد معاملہ بگڑ گیا۔واضح رہے کہ فساد کے دوران تین نوجوان کی موت ہوگئی تھی۔وہیں اس معاملے میں ملزم نوین کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔ساتھ ہی تشدد بھڑکانے والوں کے خلاف بھی پولس کاروائی کررہی ہے۔

مذکورہ خبر سے واضح ہوچکا کہ بنگلورو میں اشتعال انگیز بیان اور پوسٹ کو لےکر تشدد بھڑکا تھا۔پھر ہم نے وائرل تصویر سچائی جاننے کےلیے ریورس امیج سرچ کیاتو ہمیں وائرل تصویر کے حوالے سے اسکرین پر کئی خبریں نظر آئی جو دوہزاسول کی تھی۔درج ذیل میں اسکرین شارٹ دیکھ کر پتالگا جاسکتا ہے۔

Information got on screen

کیا ہے وائرل تصویر کی اصل سچائی ؟

پھر ہم نے بنگلور تشدد کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں دی سیاست ڈیلی اور بی بی سی انگلش پر وائرل تصویر کے حوالے سے12ستمبر 2016 کی خبریں ملیں۔دونوں خبروں کے مطابق کاویری آبی تنازع کو لے کر کرناٹک کے بنگلورو میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔جس میں مشتعل مظاہرین نے دوکانوں اور گاڑیوں میں آگ زنی کی تھی۔اب یہ واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر کا حال کے دنوں میں ہوئے تشدد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔بلکہ کاویری آبی تنازع کے دوران مظاہرین نے آگزنی کی تھی اسی کی یہ تصویر ہے۔

Final Finding

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں ثابت ہوتا ہے کہ برج کے نیچے آگ زنی کی تصویر بنگلورو کی ہی ہے۔لیکن کاویری آبی تنازع کے دوران 4سال پہلے ہوئی تشدد کی ہے۔واضح رہے کہ تصویر کے ساتھ کئے گئے دعوے کچھ حد تک صحیح ہے۔

Result:Misleading

Our Sources

News18:https://urdu.news18.com/news/nation/south-india-bengaluru-violence-congress-mla-srinivas-murthy-residence-vandalised-over-his-nephew-derogatory-facebook-post-karnataka-police-rau-na-313979.html

Thewire:http://thewireurdu.com/tag/%DA%A9%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B3-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%A7%DB%8C%D9%84-%D8%A7%DB%92/

bbc :https://www.bbc.com/news/world-asia-india-37338613

DailySiasat:https://archive.hindi.siasat.com/news/%E0%A4%95%E0%A4%BE%E0%A4%B5%E0%A5%87%E0%A4%B0%E0%A5%80-%E0%A4%9C%E0%A4%B2-%E0%A4%AE%E0%A4%BE%E0%A4%AE%E0%A4%B2%E0%A5%87-%E0%A4%AE%E0%A5%87%E0%A4%82-%E0%A4%AC%E0%A5%87%E0%A4%82%E0%A4%97%E0%A4%B2-833939/

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Crime

جودھپور:11پاکستانی مہاجروں کا قتل مسلمانوں نے نہیں کیا ہے

Published

on

جودھپور میں مسلم شدت پسندوں نے پانچ بچہ سمیت 11ہندو پاکستانی مہاجروں کا قتل کردیا ہے۔مقتول کی لاشوں کو زمین دوز بھی کردیا۔یہ لوگ پاکستانی شدت پسندوں سے جان بچا کر جودھپور آئے تھے۔

وائرل پوسٹ جو مسلمانوں کے دل کو مجروح کرنے والی ہے۔
Viral Image from Facebook

کیا ہے وائر پوسٹ؟

دی مُکی شرما نامی فیس بک پیج پر متعدد لاشوں کی ایک تصویر کو شیئر کیا گیا ہے۔جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے تصویر جودھپور میں ہوئے 11ہندوپاکستانی کی لاش ہے۔جسے مسلم سماج کے شدت پسندوں نے قتل کردیا ہے۔ہم نے دی مُکی کے پوسٹ کو احتیاطاً آرکائیو کرلیا ہے۔

وائرل تصویر ہمیں مختلف دعؤں کے ساتھ دیپک ہندو کا بھی پوسٹ ملا۔آرکائیو لنک۔

ٹویٹر پر بھی وائرل تصویر کیا گیا ہے شیئر

ڈیتھ آف پنگ نامی ٹویٹر ہینڈر پر بھی وائرل تصویر کو جودھپور کا بتاکر شیئر کیا ہے اور لکھا ہے کہ 11ہندومہاجروں کو قتل کرکے دفنا دیا گیا تھا۔آرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

وائرل تصویر کے حوالے سے جب ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی تو ہمیں دینک بھاسکر پر وائرل تصویر سے ملتی جلتی ایک تصویر ملی۔جس کے مطابق 11پاکستانی مہاجروں کی موت کے پیچھے ایک گینگ کا ہاتھ ہے۔جو پاکستان سے آنے والے ہر اس شخص کو پہلے ڈراتا دھمکاتا ہے۔پھر گھر والے کو اتنا پریشان کرتا ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے علاوہ ہمیں وائرل تصویر کہیں نہیں ملی۔

دینک بھاسکر پر ملی پہلی جانکاری

پھر ہم نے 11ہندوپاکستانی مہاجروں کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں آج تک ،زی نیوز اور نوبھارت ٹائمس پر پاکستانی مہاجروں کے حوالے سے خبریں ملیں۔جس کے مطابق جودھپور کے لوڑتا گاؤ میں 11 ممہاجرین کی لاشیں کھیت میں ملی تھی۔آج تک اور زی نیوز کے مطابق 10 لوگوں کی موت زہریلے انجیکشن لگانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔مرنے والوں میں دومرد چارخواتین اور پانچ بچے شامل ہیں۔واضح رہے کہ ہمیں کسی بھی رپورٹ میں یہ جانکاری نہیں ملی کہ مسلمانوں نے ان مہاجروں کا قتل کیا ہے۔

آج تک پر ملی جانکاری

پورےمعاملے کا کیا ہے سچ؟

مذکورہ تحقیقات سے تسلی نہیں ملی تو نیوزچیکر کی ٹیم نے ا یڈیشنر ایس پی جودھپور سے بات کی اور ان سے سوال کیا”کیاجودھپور میں 11ہندؤں کا قتل  مسلمانوں کے ہاتھو ہوا ہے ؟اس بات کو سنتے ہی ایس پی نے کہاں یہ فرضی خبر ہے۔اس معاملے میں مسلمانوں کا کوئی رول نہیں ہے۔آپسی تنازع کی وجہ سے 11ہندوپاکستانی مہاجروں نے خودکشی کی ہے۔

Conclusion

نیوزچیکرکی تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ وائرل تصویر کہاں کی ہے۔لیکن تصویر کے ساتھ کیےگئے دعوے فرضی ہے۔جودھپور ایڈیشنر ایس پی کے مطابق مسلمانو نے 11ہندوپاکستانی مہاجروں کا قتل نہیں کیا ہےبلکہ وہ لوگ خودکشی کی ہے۔مسلمانوں کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

Result:Misleading

Our Sources

Bhaskar:https://www.bhaskar.com/local/rajasthan/jodhpur/news/pakistans-displaced-as-soon-as-they-step-into-india-pakistan-begins-displaced-then-new-game-of-exploitation-begins-127607504.html

Aajtak:https://aajtak.intoday.in/story/rajasthan-11-pakistani-refugees-found-dead-in-jodhpur-1-1218194.html

ZeeNews:https://zeenews.india.com/hindi/india/rajasthan/video/rajasthan-what-is-the-pakistan-connection-of-the-death-of-11-pakistani-hindu-in-jodhpur-11-hindu-refugees/727683

NBT:https://navbharattimes.indiatimes.com/state/rajasthan/jodhpur/video-goes-viral-of-laxmi-over-eleven-members-of-a-family-of-pakistan-hindu-migrants-were-found-dead-in-jodhpur/videoshow/77501683.cms

Ground Verification

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Coronavirus

وائرل تصویر میں کرونا کی ویکسن لگوارہی لڑکی روسی صدرپوتین کی بیٹی نہیں ہے

Published

on

یہ روسی صدر پوتین کی بیٹی ہے۔جسے دنیا کا سب سے پہلا کرونا کاٹیکہ لگایا گیا ہے۔

وائرل پوسٹ

کیا ہے وائرل پوسٹ؟

روس نے دنیا کا سب سےپہلا کروناویکسین تیار کرلیا ہے۔سوشل میڈیا پر لال رنگ کے ٹی شرٹ پہنی لڑکی کی ایک تصویر خوب گردش کررہی ہے۔جس میں لڑکی کو انجیکشن لگایا جارہا ہے۔دعویٰ کیا جارہا ہےوائرل تصویر میں نظر آرہی لڑکی روسی صدرولادیمیر پوتن کی بیٹی ہے۔جسے کروناوائرس کا پہلا ویکسین لگایا جارہاہے۔جسے متعد یوزرس نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔

انجم نامی ٹویٹر یوزر نے لال رنگ کے ٹی شرٹ پہنی ہوئی لڑکی کی تصویر شیئر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ روسی صدر پوتن کی بیٹی ہے۔جسے کروناکا پہلا ٹیکہ لگایا جارہاہے۔آرکائیولنک۔

نیوزایٹین کے سینئر صحافی اقبال نے بھی وائرل تصویر کو پوتن کی بیٹی کا بتاکر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

بجیندر کٹانی نے بھی ٹویٹر وائرل تصویر کو مذکورہ دعوے ساتھ شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

فیس بک پر بھی لال ٹی شرٹ والی لڑکی کی تصویر کو کیاگیا شئیر

فیس بک پر کنہیا کمار فین نامی پیج پر وائرل تصویر کو صدر پوتن کی بیٹی کا بتاکر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

ای آر رمن دیپ نامی فیس بک یوزر نے لال ٹی شرٹ والی لڑکی کو پوتن کی بیٹی بتا کر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

وائرل تصویر کی حقائق تک پہنچنے کےلیے سب سے پہلے ہم نے تصویر کو انوڈ کی مدد سے کچھ کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں وائرل تصویر سے متعلق کافی خبروں کے لنک فراہم ہوئے۔جن میں زیادہ تر خبر جولائی ماہ کی ہے۔جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

پہلی پڑتال

مذکورہ جانکاری سے واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر کم از کم ایک ماہ پرانی ہے۔پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں عربی زبان میں ایک خبر ملی۔جس کے مطابق یہ لال ٹی شرٹ والی لڑکی صدر پوتن کی بیٹی ہے۔جسے کروناویکسین لگایا جارہاہے۔ہم نے اسے احتیاطاً اس آرٹیکل کو آکائیو کرلیا۔

پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں پوسٹ آف ایشیاء نامی نیوز ویب سائٹ پر 20جولائی 2020 کی ایک خبر ملی ایگریزی زبان میں ملی۔جس میں وائرل تصویر کے ساتھ خبر شائع کی گئی ہے۔خبر کے مطابق روس میں کروناوائرس کے ویکسین تیار ہوچکا ہے۔جسے استعمال کی اجازت جلد ہی مل جائے گی جب آخری رضاکار اسپتال سے ڈسچارج ہوجائے گا۔لیکن ہمیں اس خبر میں نا ہی صدر پوتن کی بیٹی کے بارے میں پتا چل سکا اور ناہی لال ٹی شرٹ والی لڑکی کا کہ اس کانام کیا ہےاور کون ہے یہ لڑکی؟

اس خبر میں تصویر کے بارے میں ذکر نہیں کیاگیا ہے۔

ان سبھئ تحقیقا کے باوجود ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں نیوزٹیوب نامی نیوز ویب سائٹ پر روسی زبان میں 13جولائی 2020 کی ایک خبر ملی۔جب ہم نے اسے گوگل ٹرانسلیٹ کیا تو پتا چلالال ٹی شرٹ والی لڑکی کا نام "نتالیا "ہے۔پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں زویزدہ نامی نیوز ویب سائٹ پر وائرل تصویر والے ویڈیو کے ساتھ ایک خبر روسی زبان میں تھی ۔جب ہم نے اسے ٹرانسلیٹ کیاتو پتا چلا کہ نتالیہ ایک رضاکار ہیں۔جن پر کروناویکسین ٹیسٹ کیا گیا تھا۔انہوں اس بارے میں اپنا تاثرات بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔

اصل فائنڈنگ

روسی صدر ولادیمیر پوتن کی بیٹیوں کا کیا ہے نام؟

جب ہم نے صدر والادی میر پوتن کی بیٹیوں کے بارے میں سرچ کیا تو ہمیں العربیہ اردو نیوز ویب سائٹ پر 28اکتوبر 2019 کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق پوتن کی دوبیٹاں ہیں۔ایک کا نام ماریہ ورونٹسوا ہے اور دوسری کا نام آکرو ہے۔ماریہ  ایک چائلڈ اسپیشلسٹ ہیں اور آکرو ڈانسر ہے۔

صدر پوتن کی بیٹیوں کے بارے میں جانکاری

روسی صدر کے حوالے سے پہلے بھی فرضی پوسٹ شیئر کئے گئے ہیں ۔جسےنیوزچیکر کی ٹیم فیکٹ چیک کرچکی ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر روسی صدر والادی میر پوتن کی بیٹی کی نہیں ہے۔بلکہ نتالیہ نامی روس کی کووڈ رضاکارہ ہے۔

Result:Misleading

Our Sources

Postofasia:https://postofasia.com/covid-19-vaccine-created-by-russian-navy-is-nearer-to-approval-after-final-volunteers-discharged-from-hospital-video/

Tvzvezda:https://tvzvezda.ru/news/vstrane_i_mire/content/20206261028-GQ04u.html?utm_source=tvzvezda&utm_medium=longpage&utm_campaign=longpage&utm_term=v1

Newstube:https://newstube.mirtesen.ru/blog/43743054493/Kogda-mozhno-budet-ispolzovat-vaktsinu-ot-koronavirusahttps://tvzvezda.ru/news/vstrane_i_mire/content/20206261028-GQ04u.html?utm_source=tvzvezda&utm_medium=longpage&utm_campaign=longpage&utm_term=v1

AlArabiya:http://urdu.alarabiya.net/ur/international/2019/10/14/%D8%B3%D8%A7%D8%AA-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-10-%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1-%D9%88%D9%84%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B1-%D9%BE%D9%88%D8%AA%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2-%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%D8%A7%D8%AA.html

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading