Connect with us

Crime

کیا واقعی لال قلعے میں جھڑپ کے بعد پولس اہلکاروں نے کہا نہیں چاہیئے ایسی نوکری کسان مارتے ہیں؟

وائرل ویڈیو کا کسان آندولن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ ویڈیو جھارکھنڈ اسسٹنٹ پولس اہلکاروں کے احتجاج کے دوران ریاستی پولس سے جھڑپ کی ہے۔

Published

on

فیس بک پر شہزاد لولابی نامی یوزر نے 6منٹ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔جس میں کچھ پولس اہلکار زخمی حالت میں نظرآرہے ہیں۔یوزرکا دعویٰ ہے کہ "بھارت سرکار کے غلط فیصلوں کی وجہ سے کسان اور پولیس آمنے سامنے آگئے ہیں۔پولیس والے رو رو کر کهہ رہے ہیں ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہمیں نہیں چاہیے ایسی نوکری ہمیں کسان مارتے ہیں”

شہزاد لولابی کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

ٹویٹر پر جموں آزاد نامی یوزر نے بھی مذکورہ ویڈیو کے ساتھ کئےگئے دعوےکو پوسٹ کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

وائرل ویڈیو میں کئے گئے دعوے کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کا انوڈ کی مدد سے کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔لیکن کچھ بھی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔پھر ہم نے ویڈیو کو غور سے دیکھا تو نیچے کی جانب انگلش میں دی فالواپ(the follow up) لکھا ہوا نظر آیا۔

دی فالو اپ کو جب ہم نے یوٹیوب پر سرچ کیا تو ہمیں اصل ویڈیو ملا۔جسے 18ستمبر 2020 کو اپلوڈ کیاگیا ہے۔ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ "لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین اسسٹنٹ پولیس اہلکار نے اپنے غصے کا اظہار کیا”لیکن اس ویڈیو میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ پولس اہلکار کہاں اور کس جگہ پر احتجاج کررہے ہیں۔

ویڈیو کو غور سے سننے پر ایک خاتون پولس اپنے بیان میں جھارکھنڈ پولس کا ذکر کررہی ہےپھر ہم نے کچھ گوگل کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں نیوز18بہارجھارکھنڈ اور پربھات خبر کی خبریں ملیں ۔جس کے مطابق جھارکھنڈ اسسٹنٹ پولس ملازمین براہ راست تقرری کولےکر دھرنا پر تھے۔مانگ پوری نہ ہونے پر رانچی میں راج بھوان کا گھیر اؤکرنے کےلئے آگے بڑھے تو پولس ہی نے ان پر لاٹھی چارج کردیا۔

سرچ کے دورا ن اے این آئی کے آفیشل آئی ڈی پر جھارکھنڈ اسسٹنٹ پولس اہلکاروں کی ایک ویڈیو کے ساتھ جانکاری فراہم ہوئی۔جس کے مطابق جھارکھنڈ اسسٹنٹ پولس اور ریاستی پولس کے بیچ جھڑپ ہوگئی۔جس میں کئی پولس اہلکار زخمی بھی ہوگئے تھے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتاہے کہ وائرل ویڈیو کا کسان آندولن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ ویڈیو جھارکھنڈ اسسٹنٹ پولس اہلکاروں کے احتجاج کے دوران ریاستی پولس سے جھڑپ کی ہے۔جس میں متعدد پولس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ویڈیو میں پولس اہلکار "کسان مارتے ہیں” یہ نہیں کہ رہے بلکہ” سرکار ہم پر لاٹھی چلاتی ہے”یہ کہتے ہوئے صاف سنا جا سکتا ہے۔

Result: Misleading

Our Sources

FU:https://www.youtube.com/watch?v=mj67SvSCWJk

N18:https://www.youtube.com/watch?v=XFNFPxIIBcY

PK:https://www.youtube.com/watch?v=s6HLOlZ7e_o

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Crime

تھائی لینڈ ٹَک بائی واقعے کی تصویر کو برما کے مسلمانوں کا بتا کر کیا جارہاہے سوشل میڈیا پر شیئر

وائرل تصویر کا برما کے مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ یہ تصویر تھائی لینڈ کے ٹک بائی واقعے کی ہے۔جو 2004 میں پیش آیا تھا۔

Published

on

سلیم اختر نامی فیس بک یوزر نے فل دیسی ماحول نامی پیج پر ایک تصویر شیئر کی ہے۔تصویر میں نیم برہنہ لوگوں کی بھیڑ نظرآرہی ہے۔جو پولس کی گرفت میں ہیں۔یوزر نے لکھا ہے کہ "صرف ایک منٹ برماکے مسلمانوں کےلئے۔یا اللہ برماکے مسلمانوں کی مدد فرما،آمین لکھ کر شیئر کریں

سلیم اختر کے فیس بک پوسٹ کاآرکائیو لنک ۔

اس کے علاوہ دیگر کئی یوزرس نے اس تصویر کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

شاہین دوتانی پیج کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

وائرل تصویر کے ساتھ لکھے ہوئے کیپشن کو جب ہم نے فیس بک اور ٹویٹر ایڈوانس سرچ کیا تو ہمیں فیس بک پر عربی اور اردو زبان میں مختلف کیپشن کے ساتھ تصویر ملی۔جسے 13جنوری 2020 اور 25دسمبر 2019 کو شیئر کیا جاچکا ہے۔دونوں پوسٹ کے آرکائیو لنک درج ذیل ہیں۔

ہردل کی آواز پاکستان زند آباد کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

ربیع جاد ابوعمر کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

وائرل تصویر کی کیا ہے اصل حقیقت ؟

وائرل تصویر کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے ریورس امیج سرچ کیا ۔اس دوران ہمیں پاکستان کی معروف نیوز ویب سائٹ ڈون پر26فروری 2019 کی ایک خبر ملی۔جس میں وائرل تصویر کے ساتھ ایک خبر شائع کی گئی ہے۔جس کے مطابق تھائی لینڈ کے ٹک بائی پولس اسٹیشن کے اہلکاروں نے مظاہرین کو گرفت میں لے رکھا ہے۔وہیں الجزیرہ پر شائع 25اکتوبر 2019 کی خبر ملی۔جس میں بھی وائرل تصویر کو اے ایف پی کا حوالہ دےکر تھائی لینڈ ٹک بائی واقعے کا بتایا گیا ہے۔

ڈون نیوز کا آرکائیو لنک۔

الجزیرہ نیوز کا آرکائیو لنک۔

پھر ہم نے ٹک بائی واقعے کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں اے ایف پی کے نیوز ویب سائٹ پر وائرل تصویر کے حوالے سے اصل خبر ملی۔رپوٹ کے مطابق تھائی لینڈ میں مسلمانوں نے تھائی پولس کی جانب سے اپنے اوپر ہورہے ظلم کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ٹک بائی پولس اسٹیشن کے پولس اہلکاروں اور فوجیوں نے مظاہرین کو گرفتار کر لیا تھا. جس میں درجنوں لوگ زخمی ہوےَ تھے اور دم گھٹنے کی وجہ سے کافی لوگوں کی موت بھی ہوئی تھی۔یہ واقعہ 25 اکتوبر 2004 کو پیش آیا تھا۔

آرکائیو لنک

یہاں ایک بات بتا دینا مناسب ہے کہ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی گزشتہ کئی سالوں سے کی جارہی ہے۔میڈیا رپوٹ کی مانیں تو 2017میں تقریباً 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو اس وقت فوج کی ظلم و زیادتی سےبچنے کےلئےمیانمار کی مشرقی ریاست راکھین سے فرار کر سرحد پار پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا،فوج نے آبادیوں کو جلا کر راکھ کیا اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں کیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں پتا چلا کہ وائرل تصویر کا برما کے مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ یہ تصویر تھائی لینڈ کے ٹک بائی واقعے کی ہے۔جو 2004 میں پیش آیا تھا۔

Result:Misplaced/PartlyFalse

Sources

Dawn:https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=26_10_2019_013_005

Aljazeera:https://www.aljazeera.com/news/2019/10/25/muslims-in-south-thailand-mark-15-years-since-tak-bai-massacre

AFP:https://www.afpforum.com/AFPForum/Search/ViewMedia.aspx?mui=1&hid=A70F1565DCBC2C9E06DEC9C844944CAC8529F020EC86DB694EA13F40F8ED02CACB7BE6C494404B5E

وٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Crime

کیا کسانوں نے لال قلعے پر خالصتان کا جھنڈا لہرایا؟وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

لال قلعے پراحتجاجیوں نے خالصتان کے جھنڈے نہیں لہرائے تھے بلکہ سکھوں کا مذہبی نشان صاحب کا جھنڈا لال قلعے کے گنبد پر لگا یا تھا۔یہ بات بھی جھوٹی ثابت ہوتی ہے کہ ترنگے کی جگہ خالصتانی جھنڈا لہرایا گیا۔

Published

on

سوشل میڈیا پر پاکستانی یوزس کا دعویٰ ہے کہ سکھ کسانوں نےیوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی آ کر مودی سرکار کی بینڈ بجا دی ہے۔ دہلی کے لال قلعے پر ترنگے کی جگہ خالصتان کا جھنڈا لہرا یا۔

فیاض شوٹس کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

ویکاس پانڈے کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

فیس بک پر بھی مذکورہ دعوے کے ساتھ ویڈیو شیئر کئے گئے ہیں

میان والی ہوم ٹاؤن نامی فیس بک پیج پر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

یوٹیوب پر بھی کئی خبریں خالصتانی جھنڈے کے حوالے شیئر کی گئی خبریں

Fact Check / Verification

ملک بھر میں کسان آندولن جاری ہے۔کل یعنی(26جنوری ) کو کسانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اسی بیچ سوشل میڈیاپر طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جارہی ہے۔کچھ یوزرس کا دعوی ہے کہ لال قلعے پر ترنگا ہٹاکر خالصتانی جھنڈا لہرایا گیا۔وہیں کچھ یوزرس نے لکھا کہ جس تصویر کو خالصتانی جھنڈا بتایا جارہاہے وہ سکھ مذہب کا پاک نشان” صاحب” ہے۔

سچ کیا ہے یہ جاننےکےلئے ہم نے کئی ویڈیو اور تصاویر کو باز کی نگاہ سے دیکھا؟جن میں نیوزایجنسی اےاین آئی ،ایکنامک ٹائمس اور بی بی سی ہندی شامل ہیں۔جس میں وائرل ویڈیو اور تصاویر کے حوالے سے خبر شائع کی گئیں ہیں۔

بی بی سی کی رپوٹ

کیا لال قلعے پر خالصتانی جھنڈا لہرایا گیا؟

مزید سرچ کے دوران ہمیں نیوز24 پر جھنڈے کے حوالے سے ایک خبر ملی۔جس کے مطابق جس جھنڈے کو خالصتانی جھنڈا بتایا جارہاہے وہ دراصل” مذہبی نشان صاحب” کا جھنڈا ہے۔

نیوز24 کا رپوٹ
ANIاسکرین شارٹ

اے این آئی کے ایک ٹویٹ سے پتاچلا کہ وائرل تصویر کے ساتھ کیاگیا دعویٰ فرضی ہے۔

وائرل تصاویر اور ویڈیو کے حوالے سے نیوزچیکر ہندی کی ٹیم نے 26جنوری کو ہی گراؤنڈ رپوٹ کے ذریعے وائرل تصاویر میں نظر آرہے جھنڈے کو نشان صاحب کا جھنڈا ثابت کیا ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ لال قلعے پراحتجاجیوں نے خالصتان کے جھنڈے نہیں لہرائے تھے بلکہ سکھوں کا مذہبی نشان صاحب کا جھنڈا لال قلعے کے گنبد پر لگا یا تھا۔یہ بات بھی جھوٹی ثابت ہوتی ہے کہ ترنگے کی جگہ خالصتانی جھنڈا لہرایا گیا۔

Result: False

Our Sources

News24:https://www.youtube.com/watch?v=d2n5N11mmf4

ANI Video: https://twitter.com/ANI/status/1353984535084470272?s=20

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Crime

1979کی مقتول خاتون کی تصویر کو موجودہ سزایافتہ حاملہ خاتون سے جوڑکر کیاجارہاہے شیئر

وائرل تصویر کے ساتھ کئے گئے دعوے حقیقت پر مبنی ہے۔لیکن جس تصویر کوامریکہ کی لیزا مونٹوگومیری بتایاگیا ہے وہ دراصل پورٹ لینڈ اینامیری ہالواکا نام کی مقتول خاتون ہے۔

Published

on

وردان دیانیوز نٹورک نامی فیس بک پیج پر ایک خاتون کی تصویر شیئر کی گئی ہے۔یوزر کا دعویٰ کہ خاتون کا نام لیزا مونٹوگومیری ہے۔جسے 67 سال بعد پھانسی دی گئی ۔ امریکی سپریم کورٹ نے سال دہائی کے بعد کسی خاتون کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔

ورادان دیا کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

وائرل تصویر کے ساتھ کئے گئےدعوے کی سچائی جاننے کئے لئے ہم نے سب سے پہلے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں نیوز18اردو اسکائی نیوز اور یو ایس ٹو ڈے کے ویب سائٹ پر لیزا مونٹوگومیری کے حوالے سے خبر ملی۔جو حقیقت پر مبنی ہے۔لیکن جس تصویر کو فیس بک پر لیزا بتایا جارہاہے وہ کوئی دوسری خاتون ہے۔

وائرل تصویر کو جب ہم نے ریورس امیج کی مددس سے سرچ کیا تو ہمیں غیرملکی نیوزویب سائٹ اے بی سی پر وائرل تصویر کے حوالے سے جانکاری ملی۔جس کے مطابق خاتون کا نام اینامیری ہالواکا (Anna Marie Hlavka) ہے۔جسے اورے گان کے پورٹ لینڈ میں24 جولائی 1979 میں قتل کردیا گیا تھا۔آپ کو بتادوں کہ اینامیر ہالکا پہلی وہ خاتون ہے۔جس کے کیس میں پہلی مرتبہ قاتل کی شناخت کرنےکےلئے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کا استعمال کیا گیا تھا۔

وہیں جب ہم نے اینا میری ہالواکا کے حوالے سے کیورڈ سر چ کیاتو ہمیں فائند آ گریو نامی ویب سائٹ پر پورتفصیلات ملیں۔جسےآپ لنک پر کلک کرکے معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور نیچے دونوں خواتین کی تصاویر پیش کی جارہی ہے۔جہاں آپ واضح تمیزکی جاسکتی ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر کے ساتھ کئے گئے دعوے حقیقت پر مبنی ہے۔لیکن جس تصویر کوامریکہ کی  لیزا مونٹوگومیری بتایاگیا ہے وہ دراصل پورٹ لینڈ کی اینامیری ہالواکا نام کی مقتول خاتون ہے۔

Result:Manipulated

Our Sources

N18:https://urdu.news18.com/news/international/us-woman-murderer-hanged-after-67-years-snm-337035.html

Sky:https://news.sky.com/story/lisa-montgomery-only-woman-on-us-federal-death-row-to-die-by-lethal-injection-today-12185537

UT:https://www.usatoday.com/story/news/nation/2021/01/12/lisa-montgomery-first-us-execution-female-inmate-67-years-halted/6635530002/

abc:https://abcnews.go.com/US/murderer-executed-1999-identified-dna-man-allegedly-womans/story?id=60778094

F:https://www.findagrave.com/memorial/160635055/anna-marie-hlavka

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading