Connect with us

Coronavirus

بہار محکمہ صحت نے پالٹری مرغی میں کروناوائرس کی تصدیق کی ہے؟وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

سوشل میڈیا پر پالٹری مرغی کے حوالے سے دینک جاگرن اخبار کی کٹنگ وائرل ہورہی ہے۔جس میں لکھا ہے کہ بہار محکمہ صحت نے یہ تصدیق کیا ہے کہ پالٹری مرغی میں کروناوائرل کے اثرات پائے گئے ہیں۔محکمہ صحت کی ٹیم نے جگہ جگہ مرغیوں کا سیمپل کی لے کر جانچ کے بعد یہ اطلاع دی ہے کہ مرغی میں کروناوائرس پایا گیا ہے۔

Published

on

دعویٰ

بہار محکمہ صحت نے پالٹری مرغی کی جانچ کے بعد اس میں کروناوائرس پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

تصدیق

مہلک وباء کروناوائرس کی وجہ سے دنیابھر کے لوگ پریشان حال ہیں۔ڈبلو ایچ او کے مطابق اب تک اس وباء کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک لاکھ تئیس ہزار ایک سو چبھیس افراد کی اموات ہوچکی ہیں۔جبکہ محض ہندوستان میں بارہ ہزار سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔سیکڑوں لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں۔وہیں ان دنوں سوشل میڈیا پر پالٹری مرغی کے حوالے سے دینک جاگرن اخبار کی کٹنگ وائرل ہورہی ہے۔جس میں لکھا ہے کہ بہار محکمہ صحت نے یہ تصدیق کی ہے کہ پالٹری مرغی میں کروناوائرل کے اثرات پائے گئے ہیں۔محکمہ صحت کی ٹیم نے جگہ جگہ مرغیوں کا سیمپل لے کر جانچ کے بعد یہ اطلاع دی ہے کہ مرغی میں کروناوائرس پایا گیا ہے۔اسلئے لوگ یہ مرغی نہ کھائیں۔وائرل خبر کے سلسلے میں ہمارے قاری ڈاکٹرمحمد اظہرالدین نے جو فرینچ زبان کے ایکسپرٹ ہیں۔انہوں نے اس خبر کی سچائی جاننے کی التجاء کی۔جس کے بعد ہماری ٹیم نے اس پر کام کرنا شروع کیا۔

ہماری کھوج

بہارمحکمہ کے حوالے سے وائرل خبر کو پڑھا تو اس میں جملے کی ساخت بے مطلب نظر آئی۔لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل خبر کے عنوان کو گوگل کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں آج تک نیوز ویب سائٹ پر انیس مارچ دوہزار بیس کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق بہار میں چکن میں کرونا سے متعلق افواہ کی وجہ سے پالٹری کاروبار پر گہرا اثر پڑا ہے۔

آج تک نیوز سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا بہار محکمہ صحت نے پالٹری مرغی میں کروناوائرس کی تصدیق کی ہے یا نہیں۔پھر ہم نے ڈبلو ایچ او کے ویب سائٹ کو کھنگالا۔جہاں ہمیں اس حوالے سے کچھ بھی نہیں ملا۔لیکن سرچ کے دوران پالٹری اویرنیس ڈاٹ کام پر چکن کے حوالے سے جانکاری ملی کہ کروناوائرس والی باتیں افواہ ہیں۔چکن میں کروناوائرس نہیں پایا گیا ہے۔حالانکہ اس حوالے سے وائرل ہوئی خبروں پر نیوزچیکر پہلے بھی فیکٹ چیک کرچکا ہے۔

ان سبھی تحقیقات سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے بہارمویشی و ماہی گیروسائل ڈیپارمنٹ کے ویب سائٹ کو کھنگالا۔لیکن یہاں بھی ہمیں اس حوالے سے کچھ بھی اطمینان بخش جانکاری فراہم نہیں ہوئی۔البتہ ویب سائٹ پر ٹول فری نمبر (18003456185)ملا۔جس پر ہم نے کال کیا تو سنجیو کمار نامی ملازم نے فون اٹھایا۔پھر ہم نے ان سے وائرل خبر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے صاف طور پر وائرل خبر کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ بہار سرکار اور مویشی ڈیپارمنٹ کے درمیان میٹنگ کے بعد یہ اعلان کیاجا چکا ہے کہ پالٹری چکن،بکرے کا گوشت اور مچھلی کھانے سے کروناوائرس نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بہار میں ان سبھی جانوروں کے گوشت کے خرید و فروخت کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

سنجیو کمارکی باتوں پر ذرا اندیشہ ہوا تو ہم نے گوگل پر  اس حوالے سے میڈیا رپورٹ تلاشنا شروع کیا۔جہاں ہمیں این بی ٹی اور نیوزایٹین بہار پر شائع خبریں ملیں۔جس کے مطابق بہار سرکار نے لاک ڈان کے دوران گوشت،مچھلی اور انڈے کی دوکانیں کھولنے کا حکم دیا ہے۔ساتھ ہی کسانوں کو بھی کھیت میں لگی فصل کاٹنے کی اجازت دی ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ پالٹری مرغی میں کروناوائرس کی تصدیق والی خبر فرضی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میڈیا رپوٹ کا حوالہ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بہارسرکار نے گوشت،مچھلی اور انڈے کی دوکانیں کھولنے کا حکم دیا ہے۔

ٹولس کا استعمال

گوگل کیورڈ سرچ

میڈیارپورٹ

فون کال ویری فیکیشن

نتائج:فرضی خبر

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے  نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Coronavirus

کیا وائرل ویڈیو میں نظر آرہا شخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت ہیں؟سچ جاننےکےلئے پڑھئے ہماری تحقیقات

وائرل ویڈیو میں نظر آرہاشخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت نہیں ہیں۔بلکہ ایک چینی شخص ہے جو زندگی میں پہلی بار انجیکشن لگانے کے دوران رو رہا ہے۔

Published

on

فیس بک پر فیاض جھورر نے ایک ویڈیو شئیر کیا ہے۔دعویٰ ہے کہ تھائی لینڈ کے وزیر صحت انجکشن لگواتے ہوئے۔

غلام رسول کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

میاں رضا کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

فیاض جھورر کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

ٹویٹرپر محمد عمر خالد نام کے یوزر نے بھی شیئر کیا ہے۔

Fact check / Verification

وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لیے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کا انوڈ کی مدد سے کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں اسکرین پر یوٹیوب کا لنک فراہم ہوا۔جو 2سال پرانہ اور غیرملکی زبان میں تھا۔

مذکورہ معلومات سے پتہ چلا کہ وائرل ویڈیو کم از کم 2سال پرانہ ہے۔ہم نے وائرل ویڈیو سے متعلق یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ا س دوران ہمیں ریڈیو جمبو کینیا نامی آفیشل یوٹیوب چینل پر وائرل ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ "چینی شخص انجیکشن لگوانے سے انکار کررہا ہے اور روبھی رہا ہے”

جب ہم نے چینی شخص کے حوالے سے کیورڈ سرچ کیا ۔تب ہمیں ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو ملا۔جس کے مطابق چینی شخص زندگی میں پہلی بار انجیکشن لے رہا ہے۔جس کی وجہ سے وہ بہت ڈرا ہوا ہے۔بتادوں کہ اس خبر کو 2فروری 2018 کو شائع کیاگیا تھا۔

کروناویکسین سے متعلق یہ تحقیق بھی پڑھیں

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہاشخص تھائی لینڈ کے وزیر صحت نہیں ہیں۔بلکہ ایک چینی شخص ہے جو زندگی میں پہلی بار انجیکشن لگانے کے دوران رو رہا ہے۔ بتادوں کہ یہ ویڈیو 2سال پرانہ بھی ہے۔

Result:False

Our Sources

WHO:https://www.who.int/news/item/27-04-2020-who-timeline—covid-19

RJ:https://www.youtube.com/watch?v=KMVtYWVkCbw

SCMP:https://www.scmp.com/video/china/2131776/chinese-man-too-afraid-get-injection

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Coronavirus

ویکسین لگنے کے بعد غیرمُلکی نرس کی نہیں ہوئی 17سیکینڈ میں موت،فرضی دعوے کے ساتھ ویڈیو وائرل

کروناویکسین لگنے کے 17 سیکنڈ بعد نرس کے جاں بحق ہونے کی خبر فرضی ہے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کے باعث محض بےہوش ہوئی تھیں۔

Published

on

ٹویٹر پر ”میں زارا” نامی یورز نے 45سیکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔ویڈیو میں کچھ سفید پوش افراد نظر آرہے ہیں۔یوزر کا دعویٰ ہے کہ "کرونا ویکسین کے تجربہ کے دوران ویکسین لگنے کےبعدنرس 17 سیکنڈ میں مرگئی۔ اللہ تعالی اس وباء سے تمام انسانیت کو بچائے رکھے” يا اللہ رحم۔

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک درج ذیل ہیں

گوہر بخاری کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

میں زارا کے ٹویٹر پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

پختون نامی فیس بک یوزر کا آرکائیو لنک۔

اس کے علاہو دیگر یوزر نے بھی ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم نکالااور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں دی ڈائری آف این اوٹی ڈی گرل نامی فیس بک پیج پر ایک منٹ10سیکینڈ کا وائرل ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن کے مطابق کووڈ ویکسین لگنے کے چالیس سیکینڈ بعد ٹفنی ڈوور نامی سینئر نرس بےہوش ہوگئی تھیں۔

پیسٹور گریگ لاک نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر بھی ویڈیو ملا۔جس میں نرس کو ویکسین لگنے کے بعد بےہوش ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

مذکورہ جانکاری سے ہمیں وائرل ویڈیو میں نظر آرہی نرس کا نام پتا چلا۔پھر ہم نے نرس ٹفنی ڈوور کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں انڈیا ٹی وی پر ٹفنی سے متعلق جانکاری ملی۔رپوٹ میں کہیں بھی ٹفنی کے موت کی بات نہیں کہی گئی ہے۔البتہ ویکسین لگنے کے بعد وہ بےہوش ہوگئی تھی یہ بات صحیح ہے۔

اس کے علاوہ ڈیلی میل نامی ویب سائٹ پر شائع 19دسمبر کی ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق ٹفنی ڈوور 30 سال کی ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں ۔چٹّانوگا کے سی ایچ آئی میموریل اسپتال میں ہیڈ نرس ہیں۔ وہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد ایک لوکل نیوز چینل 9 سے بات کرتے ہوۓ بے ہوش ہو گئی تھیں۔ حالانکہ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس کا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹفنی کے مطابق وہ اکثر و بیشتر اپنی طبی حالت کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی ہیں۔

سرچ کے دوران ہمیں یوٹیوب پر انسائڈ ایڈیشن اور ویٹ نامی آفیشل یوٹیوب چینل پر بھی وائرل ویڈیو کے حوالےسے جانکاری ملی۔ویڈیو کے ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ نرس ٹفنی کے بےہوش ہونے کا ویکسین سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کی وجہ سے بےہوش ہوئی تھیں ناکہ ویکسین لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئیں ہیں۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کروناویکسین لگنے کے 17 سیکنڈ بعد نرس کے جاں بحق ہونے کی خبر فرضی ہے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگنے کے 17 منٹ بعد نرس ٹفنی ڈوور اپنی میڈیکل کنڈیشن کے باعث محض بےہوش ہوئی تھیں۔بتادوں کہ امریکی نرس ٹفنی کو بےوقت بےہوش ہونے کا مرض ہے۔

Result- Fabricated/False

Our Sources

FB:https://www.facebook.com/OTDgirl/videos/1107207399699042

Twitter:https://twitter.com/pastorlocke/status/1339765459240022018

IndiaTv:https://www.indiatvnews.com/news/world/us-nurse-tiffany-tennessee-chattanooga-faints-taking-coronavirus-vaccine-shot-press-briefing-672411

DM:https://www.dailymail.co.uk/news/article-9067979/Tennessee-nurse-faints-live-air-minutes-getting-Pfizers-COVID-19-vaccine.html

IE:https://www.youtube.com/watch?v=p9agUz5cQCk

WIC:https://www.youtube.com/watch?v=EXAJ0eWZcas

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading

Coronavirus

کروناویکسین لگنے کی وجہ سے خواتین کے کبھی ماں نہ بننے کا دعویٰ فرضی ہے

کرونا ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ پیدانہیں کرسکے گی والا دعویٰ فرضی ہے۔زید حامد نے عوام کو گمراہ کرنے کےلئے اس طرح کا فرضی بیان دیا ہے۔

Published

on

سید محبوب نامی ٹویٹر یوزر نے 45سیکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔جس میں بلو اور سفید رنگ کے سویٹر پہنے ہوا شخص یہ کہ رہاہے کہ "جس عورت کو #Covid_19 ویکسین لگے گی وہ بچہ پیدا نہیں کرسکے گی۔اس شخص کا نام سائنسداں زید حامد بتایا گیاہے۔

وائرل ویڈیو کو فیس بک اورٹویٹر پر دیگر یوزر نے بھی شیئر کیا ہے

اے ۔کے خان اختر افغان کے فیس بک پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر ویکسین کے حوالے سے کئے گئے دعوے کی سچائی جاننے سے پہلے ہم نے سب سے پہلے ویڈیو میں نظر آرہے شخص کو یوٹیوب پر سرچ کیا۔جہاں ہمیں سامی ابراہم نامی یوٹیوب چینل پر 11دسمبر 2020 کو اپلوڈ کیا گیا ویڈیو ملا۔جس کے آخری حصے میں زید حامد یہ کہہ رہے ہیں کہ”جس عورت کو کروناویکسین لگے گا وہ کبھی بچہ پید نہیں کرسکے گی”بتادوں کہ زید حامد کو پاکستانی کے تجزیہ کار وں میں شمار کیا جاتا ہے،وہیں جیونیوز کے ایک رپوٹ میں زید حامد کو لال ٹوپی ، چرب زبانی اور متنازع بیان دینے والوں میں شمار کیاگیا ہے۔

مذکورہ جانکاری سے پتاچلا کہ ویکسین لگنے کے بعد "ماں نہ بن سکے گی خاتون” والا ددعویٰ پاکستان کے زید حامد نامی شخص نے کیا تھا۔پھر ہم نے اس حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیاکہ "کیا سچ میں ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ نہیں پیدا کرپائےگی؟اس دوران ہمیں اےپی(AP)،بزنیس اِن سائڈر اور ڈبلیو کے وائی سی نامی ویب سائٹ پر وائرل دعوے کے حوالے سے خبریں ملیں۔

رپوٹ کے مطابق سوشل میڈیاپر کیاگیا دعویٰ فرضی ہے۔ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ویکسین لگنے کے بعد خاتون ماں کبھی نہ بن سکیں گی۔دراصل گزشتہ دنوں پہلے مائکل یوڈن نامی شخص نے یہ دعویٰ کیاتھا کہ پی فائزر ویکسین لگنے کے بعد خاتون کبھی ماں نہیں بن سکے گی۔جس کے بعد یہ افواہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔بتادوں کہ زید حامد نے بھی اسی ویکسین کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے اپنا بیان دیا تھا۔

فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن نامی ویب سائٹ پر پی فائز کے ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹ بتایا گیا ہے۔جس میں کہیں بھی ویکسین لگنے کے بعد خاتون ماں نہیں بنےگی ۔اس طرح کی بات نہیں لکھی ہوئی ہے۔البتہ جو سائیڈ ایفیکٹ بتائی گئی ہے وہ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرونا ویکسین لگنے کے بعد خواتین بچہ پیدانہیں کرسکے گی والا دعویٰ فرضی ہے۔زید حامد نے عوام کو گمراہ کرنے کےلئے اس طرح کا فرضی بیان دیا ہے۔

Result- Fabricated/False

Our Sources

YouTube:https://www.youtube.com/watch?v=mvghxElPMyg

AP:https://apnews.com/article/fact-checking-9856420671

BI:https://www.businessinsider.in/science/news/no-the-coronavirus-vaccine-wont-make-you-infertile/articleshow/79803308.cms

WKYC:https://www.wkyc.com/article/news/verify/will-the-covid-19-vaccine-cause-infertility-in-women/531-3cb5340a-b3d0-4224-8a52-cfb24e9984a9

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Continue Reading